دہ خدا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - زمیندار۔  دِہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں! تیرے آبا کی نہیں، تری نہیں میری نہیں!      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ١٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دِہ' کے ساتھ فارسی سے اسم جامد 'خدا' لگایا گیا ہے۔ اصل میں یہ 'خداے دِہ' مرکب اضافی کی تقلیب ہے۔ اردو میں ١٩٣٥ء کو "بال جبریل" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر